پٹنہ ،3اکتوبر( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )نتیش کمارنے جنہیں ملک کی سا لمیت کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ مٹی میں مل جاؤں گا ؛ لیکن بھاجپا سے کبھی ہاتھ نہیں ملاؤں گا ،تاہم نتیش کمار اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے بھاجپا کے ساتھ مل مہا گٹھ بندھن توڑ کر بھاجپا سے ہاتھ ملا لیا اب اطلاعات مل رہی ہیں کہ بدھ کے دن سنگھ سربراہ موہن بھاگوت کے ساتھ ایک پروگرام میں شریگ ہوں گے ۔ معروف مذہبی پیشوارام انوج اچاریہ کی 100ویں سالگرہ میں موہن بھاگوت کیساتھ ایک پروگرام میں شریک ہوں گے ۔ جدیوکے ترجمان نیرج کمار نے نتیش ،بھاگوت ملاقات کے پس منظر میں کہا کہ یہ ایک مذہبی اور ثقافتی پروگرام ہے اور اسے سیاست سے بالا ترہوکردیکھنے کی ضرورت ہے ، پروگرام میں بہت سے رہنما شریک ہوتے ہیں ۔ میڈیا کا ایک طبقہ موہن بھاگوت کے متعلق ہی سوال کیوں کرتاہے یہ سمجھ سے بالا ہے ۔تاہم نیرج کمار کے اس بیان میں کوئی سیاسی دم خم نہیں ہے ؛ کیونکہ میڈیا ہمیشہ نتیش کمار کے اپنے قول سے انحراف کی صورت میں سوال کرتا رہے گا کہ آخر کیوں نتیش کمار اپنے حریفوں سے جاملے جب کہ انھوں نے ان بھگوا لیڈران اورجماعت سے نہ ملنے کا حلف لیا تھا۔ دریں صورت واضح ہے کہ موہن بھاگوت بہار کے عوام کو بھی بھگوائیت کا سبق پڑھانے کے ارادے سے بہار کا دورہ کر رہے ہیں ،حالانکہ اس سے قبل بھاگوت نے بہار دورہ میں کسی دلچسپی کا اظہا رنہیں کیا تھا۔ واضح ہوکہ 2019الیکشن کے متعلق سنگھ اپنی منصوبہ بندی اور اس کی کارکردگی کے ممکنہ اثرات کے متعلق غور و فکر کرے گا ؛ کیونکہ بہار کے عوام بھاجپا اور سنگھ میں کو ئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے عوام نے بہار اسمبلی الیکشن میں بھاجپا کے بہار پیجک کو ٹھکراتے ہوئے مہا گٹھ بندھن کی واضح اکثریت سے جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔